مچھلی گڑھے میں ڈالی جائے تو اس کا مالک کون ہے؟
سوال
وراثت علی نے اپنے روپیہ سے گرام سماج کے گڑھے میں سبھا پتی (پردھان یا صدر مجلس) کی رائے سے اور ان کے بار بار اصرار اور کہنے پر چھ ہزار مچھلی چار روپیہ فی ہزار کی در سے سبھاپتی کے ذریعہ خرید کر جلایا تھا، پتی نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹھیک لگان پرگرام سماج کے سرکاری کا غذات میں اس گڑھے کی مچھلی وراثت علی کے نام درج کر دیا جائیگا، مچھلی جلانے کیلئے اور پہلے ہی سے وراثت علی اس گڑھے کی جل کھمبی اور پانی کے روک تھام کا بندو بست کر لیا تھا، اور مچھلی چھوڑنے کے بعد بھی اس گڑھے کی جل کھمبی نکالنا اور دیکھ ریکھ برابر کرتا چلا…
جواب
وہ مچھلی وراثت علی نے خرید کر گڑھے میں ڈالی اور اس کی حفاظت کی وہ اس کی ہی ملک ہے، دوسرے کی ملک نہیں، اس کی قیمت کا حقدار بھی وراثت علی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔