مکان فروخت کر کے دوبارہ خریدنے کا معاہدہ
سوال
زید مجبوری کی وجہ سے بکر کے نام اپنا مکان فروخت کرتا ہے، اور رجسٹری بھی کراتا ہے، اس طریقہ پر کہ اگر مجھے سہولت ہوگی تو ایک سال بعد رقم ادا کر کے حاصل کر لونگا، اور یہ مکان بکر کا ہوگا، کیا یہ طریقہ جائز ہے، اور بکر کا اس مکان کو اپنے تصرف میں لانا درست ہو گا یا نہیں؟
جواب
اس شرط کے ساتھ فروخت کرنا بیع فاسد ہے، بلکہ یہ رہن کے حکم میں ہے، اس کو بیع الوفا کہتے ہیں، وہ مکان رہن ہوگا، اس سے نفع اٹھانا مرتہن کو درست نہیں ہوگا، لیکن اگر بیع تو بلا شرط کے کر لی جائے اس کے بعد دوسری مجلس میں پھر واپسی کا معاہدہ کر لیا جائے، تو بیع درست ہو جائے گی، اور مدت معینہ میں رقم ادا کرنے پر حسب معاہدہ وہ مکان واپس کرنا اخلاقاً لازم ہوگا، شامی میں اس کی تفصیل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔