الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دس سال کی مدت تک مکان فروخت کرنا

سوال

میں نے اپنی جائداد سکنائی قیمتی مبلغ دو ہزار روپیہ بوجہ ضرورت خرچ خانگی مبلغ نوسوروپے میں ایک شخص کو اس شرط پر بیع کر دی کہ مبلغ نوسو روپیہ مذکورہ بالا دس سال کے اندر ادا کر دوں تو مشتری مذکور بیع واپس کر دے گا، اور میرے حق میں بیعنامہ تحریر کر دیگا، بدیں وجہ مشتری مذکور نے ایک اقرار نامہ بھی تحریر کر کے رجسٹری کرا دیا کہ وہ دس سال کے اندر اپنا روپیہ لے کر بیچ واپس کر دے گا، اور مشتری مذکور دس سال تک فائدہ آمدنی کرایه وغیره سے اٹھاتا رہے گا، لہذا یہ مسئلہ دریافت طلب ہے کہ بیچ مذکور جو کہ میعادی ہے جائز ہے یا نا…

جواب

شرعاً یہ بیع صحیح نہیں ہوئی، بلکہ یہ رہن کے حکم میں ہے اور مشتری کو جو کہ در حقیقت مرتہن ہے اس جائداد سے میعاد مذکور میں نفع حاصل کرنا جائز نہیں، جس قدر آمدنی ہوگی، وہ اصل مالک یعنی بائع کی ہوگی، جو کہ در حقیقت راہن ہے اور وہ آمدنی بھی جائداد مذکور کے ساتھ رہن رہے گی، اصل مالک جبکہ مبلغ نوسو روپیہ جو کہ صورت مسئولہ میں زررہن ہے، واپس کر دے گا، اس وقت اس جائداد اور اس کی آمدنی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو