بیع الوفاء کی ایک صورت
سوال
زید نے بکر سے کہا کہ بعوض سترہ سو روپیہ رقبہ دو بیگہ زمین گروی لے لو، بکر نے جواباً کہا کہ میں اس طرح خلاف شرع گروی کی زمین اپنی تحویل میں نہیں لے سکتا، اگر تمہاری مرضی ہو پچھتر سال کے واسطے بطور معاملہ پندرہ سو روپیہ مجھ سے لیکر اپنی دو بیگہ زمین میرے قبضہ میں دیدو اور سالانہ بیس روپیہ کے حساب سے دو بیگہ کا معاملہ ادا شدہ رقم سے منہا کرتے جاؤ، اگر اس عرصہ میں کسی وقت تم کو ضرورت لاحق ہو تو منہا شدہ رقم کے علاوہ باقی زر مجھے واپس کر کے اپنی زمین لے سکتے ہو، ہمارا اس پر کسی طرح کا حق دنیاوی و شرعی نہ ہوگا، مثلاً دس…
جواب
اس عقد کا حاصل یہ ہے کہ مالک زمین زید نے اپنی زمین بکر کو کرایہ پر دی ہے، اور رقم مذکور بطور کرایہ طے کر کے پیشگی وصول کر لی، مجموعی رقم کے ساتھ ہر سال کا کرایہ بھی ظاہر کر دیا، اور بکر نے زید کو یہ بھی اختیار دیدیا کہ اگر مدت مذکورہ سے قبل اس معاملہ کو فسخ کرنا چاہو اختیار ہے، بقیہ رقم پیشگی وصول شدہ سے واپس کر دی جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔