بیع سلم في الفلوس
سوال
زید ایک عالم شخص ہے روپیہ کی ترقی کے لئے اس صورت سے ایک معاملہ کرتا ہے، زید نے عمر کو ۶ ماہ کے وعدہ پر ۲۰۰ روپیہ قرض دیا اور قرض دیتے وقت عمر سے اس مضمون کی ایک دستاویز لکھوالی کہ میں نے مبلغ ۲۰۰ روپیہ ۶ ماہ کے وعدہ پر بطور سلم عمر کو دیا، میعاد کے ختم ہونے پر فی روپیہ نو دونی (بڑی چوگوشہ والی)
جواب
فقہاء حنفیہ نے تصریح کی ہے کہ بیع سلم فی الفلوس شیخین کے نزدیک جائز ہے بلکہ ظاہر الروایت امام محمد سے بھی جواز کی منقول و ظاهرالرواية عن الكل الجواز، بحر الرائق، ص ۱۵۶ رج ۶ رفتح القدیر، ص ۳۲۷ ج ۵ شامی،ص ۳۱۸ رج ۵ / اور دیگر کتب میں بھی ظاہر الروایۃ ائمہ ثلاثہ سے جواز کی موجود ہے، اصل یہ ہے کہ اثمان یعنی سونا، چاندی میں بیع سلم جائز نہیں، اور سلور، تانبا، کانسی وغیرہ کو اگر سکہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔