قسط پر سامان مجہول قیمت پر بیچنا درست نہیں
سوال
ہم نے اقساط پر گھڑیوں کی دوکان کھولی ہے، جس میں سو افراد طے کئے ہیں، اور ہر فرد روز مرہ دو روپیہ داخل کرے اور اس گھڑی کی قیمت ۱۸۰ روپے ہے خواہ وہ اقساط سے خریدے یا ایک وقت قیمت دے کر خریدے اور ہم نے اس کی مدت تین ماہ مقرر کر رکھی ہے، جس میں ہم روز ضرور اسے دو روپیہ وصول کرتے ہیں، اور پندرہویں دن کے بعد قرع اندازی کرتے ہیں اور جس کا بھی نام نکلے گا اس کو وہ گھڑی دی جاتی ہے، اور اس شخص کے پیسے پھر نہیں لئے جاتے، اسی طرح پورے تین ماہ کے عرصہ میں پانچ قرع اندازی کی جاتی ہے، پہلے قرع میں جو گھڑی ملے گی وہ تیس روپے میں…
جواب
یہ صورت ایک قسم کا قمار (جوا) ہے اور گھڑی کی قیمت مجہول ہے نہیں معلوم کسی کی گھڑی کی قیمت کتنی ہوگی، اس لئے شرعاً یہ معاملہ درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔