اشکال بر جواب مذکوره
سوال
(۱) مفتی صاحب نے لکھا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک حیلہ سود کا ہے، مگر جب کہ فقہاء نے الخ تو عرض یہ ہے کہ جب آپ کے نزدیک یہ حیلہ یقینی سود کا ہے پھر فقہاء جائز کیسے لکھ سکتے ہیں، کیا ہمارے فقہاء حیلہ سے سود لینے کی تعلیم دیتے ہیں، مجھ کو وقت درس حضور نے سمجھایا تھا کہ شبہ ربا بھی حرام ہے، فقہاء نے اس سے بچنے کی تاکید شدید فرمائی ہے۔ (۲)
جواب
ہمارے فقہائے حنفیہ حیلہ سے سود لینے کی تعلیم نہیں دیتے، بلکہ سود سے بچنے کا طریق اور مخرج بتلاتے ہیں جس حیلہ سے سود لینا یا کسی شئی حرام کا ارتکاب یا ابطال حق غیر مقصود ہو اس سے ہمارے فقہاء نے منع فرمایا ہے اور جس حیلہ سے مخلص عن الحرام یا توصل الى الحلال مقصود ہو اس کی اجازت دی ہے، بلکہ اس کو مستحسن کہا ہے،”من مذهب علمائنا ان كل حيلة يحتال به الرجل لابطال حق الغير اولادخال…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔