قیمت متعینہ میں تاخیر کی وجہ سے زیادتی
سوال
زید نے بکر کو ایک من دھان دیا اور زید نے بکر کے ساتھ شرط کیا کہ پوس مہینہ میں تم سے ڈیڑھ روپیہ لونگا، مگر بکر غریب اس وقت روپیہ ادانہ کر سکا دھان دینا آسان ہے، اگر زید اسی نرخ معینہ کا اس وقت کے بازار کے حساب سے دھان لے تو یہ دھان لینا اس نرخ کا بیع سلم کے مطابق ہے یا نہیں؟ یا اور کسی طرح شرعاً جائز ہے یا نہیں، بینوا توجروا۔
جواب
یہ بیع سلم نہیں، کیونکہ بیع سلم کیلئے تو ضروری ہے کہ مشتری روپیہ پہلے دے اور مسلم فیہ کی صفات متعین کر کے وقت معینہ میں مسلم فیہ وصول کرلے اور یہاں ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک من دھان کی ڈیڑھ روپیہ کے عوض بیع کی اور ڈیڑھ روپیہ کی ادائیگی کا وقت معین کر دیا ہے، اب اصل تو یہ ہے کہ بکر سے اپنا ڈیڑھ روپیہ زید وصول کرلے، اگر بکر کے پاس ڈیڑھ روپیہ موجود نہیں تو وہ دھان فروخت کر کے کسی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔