الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیع سلم میں ثمن مجہول ہو

سوال

ایک شخص قرض روپے چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ میں دوماہ کے بعد روپیہ کے بعد گندم کو اس وقت کے بھاؤ سے چار سیر زیادہ دوں گا، اور اصلی معروف دونگا، تو اس طریقہ سے قرض لینا اور دینا اور پھر اسی طریقہ سے ادا کر دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اس میں یہ شرط کرنا کہ اس وقت کے بھاؤ سے چار سیر زیادہ دونگا، مفسد بیع ہے کیوں کہ یہ بیع سلم ہے، اور اس کی شرط یہ ہے کہ اسی وقت یعنی روپیہ دیتے وقت نرخ متعین کر لیا جاوے، اور صورت مسئولہ میں نرخ مجہول ہے، لہذا یہ معاملہ نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو