بادلی ملاح کے ہاتھ فروخت کرنا
سوال
ملاح سے ایک مشت قیمت طے کر کے روپیہ کچھ پیشگی اور کچھ بعد میں لئے جائیں، اور مچھلی نکلوا کر وزن کر کے دیدی جائے، تو جائز ہے، یا نہیں، جب کہ محنت مجرا ہوتی رہے، کیا یہ صورت ممکن ہے کہ مسلم بادلی ملاح کے ہاتھ فروخت کر دی جائے اور ملاح جس طرح چاہے مچھلی نکالے؟
جواب
ملاح سے ایک مشت قیمت طے کر کے کچھ پیشگی روپیہ بطور بیعانہ لینا بھی درست ہے پھر بقیہ روپیہ مچھلی نکلوا کر دینے پر وصول کر لیا جائے۔ وہ قطعہ زمین جس میں بادلی ہے ملاح کے ہاتھ فروخت کرنا بھی درست ہے پھر ملاح کو اختیار ہے وہ مالک ہے جب چاہے جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے، اس سے واپس لینے کا حق نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔