الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چڑھاوے کی خرید وفروخت کرنا

سوال

(۱) جو ہندو لوگ رام کے نام پر برہمنوں کو پن کرتے ہیں، اور خیرات کرتے ہیں، کپڑا یا جانور دیتے ہیں تو وہ جانور یا کپڑا مسلمانوں کو خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) مسلمان لوگ یا ہندو لوگ جو چڑھاوا چڑھاتے ہیں یعنی مسلمان پیر کے نام پر کپڑا یا جانور چڑھاتے ہیں تو اس چیز کو خرید نا جائز ہے یا نہیں؟ (۳) جو ہندو لوگ دیوی یا بت کے نام پر جانور یا کپڑا چڑھاتے ہیں تو یہ مسلمانوں کے لئے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) جائز ہے (۲) وہ بکرایا کپڑا وغیرہ اس چڑھانے والے کی ملک ہے کسی دوسرے کی ملک میں داخل نہیں ہوا ہے پس اگر اصل مالک سے خریدے تو درست ہے، اور کسی دوسرے فقیر وغیرہ سے جو کہ چڑھوائے اسکا خریدنا درست نہیں ہے اصل مالک اس کے متعلق نیت فاسد کر چکا ہے، اس سے توبہ ضروری ہے۔ (۳) جائز نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو