الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چڑھاوے کے بکرے کی خرید وفروخت

سوال

دریائے گنگ کو ہندو دیوتا مانتے ہیں، اور ہندو عورتیں اس سے اولاد کی مرادیں مانگتی ہیں، اولاد ہونے پر عورتیں بکری کا بچہ لے کر بال منڈوانے کی غرض سے گنگا کے کنارے جاتی ہیں، جہاں بچہ کا سرمنڈاتی ہیں، اور بکری کے بچہ کو بطور چڑھاوے یا دان کے زندہ پانی میں ڈال دیتی ہیں، گھاٹ کے ٹھیکیدار بکری کو پانی سے نکال لیتے ہیں، اور فروخت کرتے ہیں، جسے ہندو مسلمان سب ہی خریدتے ہیں، لہذا مسلمانوں کے لئے اس کی خرید و فروخت اور ذبح کر کے کھانا جائز و حلال ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

جو جانور غیر اللہ کے نام پر نامزد کر دیا گیا اور چڑھاوے کے طور پر چڑھا دیا گیا، وہ بالکل مردار اور میتہ کے حکم میں ہے، اس کا خریدنا اور فروخت کرنا اور ذبح کر کے کھانا سب حرام ہو گا اس کی تفصیل اور دلیل اگر مطلوب ہو تو فتاوی عزیزیہ، ص۲۲ رج ا/ د یکھئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو