فوجی کا شراب فروخت کر کے دوسرے کام میں استعمال کرنا
سوال
فوج میں رہنے والے حضرات کو شراب، چاول اور آٹا ملتا ہے، وہ اگر اس شراب کو فروخت کر کے اپنے لوگوں کے لئے کوئی کھیل کود کا سامان لینا چاہیں تو کیا حکم ہے؟ یا اگر اس رقم سے دعوت کریں جس میں مسلم و غیر مسلم دونوں شریک ہوں تو کیا حکم ہے؟
جواب
شراب پینا، فروخت کرنا، خریدنا، پلانا، سب ناجائز اور حرام ہے، موجب لعنت ہے مسلم کو پلائے یا غیر مسلم کو پلائے کچھ بھی جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔