دار الاسلام میں ذمی کو حرام اشیاء فروخت کرنے کی اجازت جزیہ کے بدلے
سوال
کتاب غنیۃ الطالبین مترجم امان اللہ خاں سرحدی، ناشر ملک پبلشرز پرائیویٹ لمٹیڈ دیو بند ضلع سہارنپور، ص ۲۶۳ ر پر تحریر ہے کہ ذمی، یہودی، نصرانی، مجوسی، سور شراب وغیرہ جیسی حرام چیزیں فروخت کرنا چاہیں، تو ان کو اس کی اجازت دینی چاہئے، ہاں قیمت کا دسواں حصہ وصول کرنا مقرر کر لیا جائے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو یہ چیزیں فروخت کرنے کی اجازت دیدو اور ان کی قیمت کا دسواں حصہ ان سے لے لو، گزارش یہ ہے کہ حکومت اسلامی میں رہنے والے غیر مسلموں سے جزیہ لیا جاتا ہے، اور اس کے…
جواب
جو کفار ذمی بن کر دار الاسلام میں رہیں ان سے جزیہ وصول کیا جاتا ہے، اور ان کے جان و مال کی حفاظت کی جاتی ہے، اور شراب وخنزیر کی بیع ان کے مذہب میں جائز ہے اس پر پابندی عائد نہیں کی جاتی ہے، بلکہ ان کو فروخت کرنے کی اجازت ہے، یہ حنفیہ کا مسلک ہے، جو کتب فقہ میں مذکور ہے اور جزیہ یا خراج حسب اصول لیا جاتا ہے، دسواں حصہ تعین نہیں، غنیۃ الطالبین حنفی مسلک کی کتاب نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔