الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مردار کی گیلی کھال فروخت کرنا

سوال

مردہ جانور کی گیلی کھال بکرایا بھیڑ کی جو چمار لوگ نکال کر لاتے ہیں، جو گیلی ہوتی ہے، وہ کھال مسلمان خرید کر اس پر نمک وغیرہ اپنے ہاتھ سے لگاتے ہیں، ایسی صورت میں نمک لگانا اپنے ہاتھ سے کیسا ہے اور کیا حکم ہے؟

جواب

مردار کی گیلی کھال بغیر دباغت دیئے ناپاک اور حرام ہے، اس کو خریدنا بھی حرام ہے، یہ بیع باطل ہے، دباغت کے بعد وہ پاک ہو جائیگی، اور خرید و فروخت بھی درست ہوگی، اولاً چمار وغیرہ سے نمک وغیرہ لگوا کر اسکو دباغت دے لیا جائے، پھر اسکو خریدا جائے، مردار کی گیلی کھال کو ہاتھ لگا کر دباغت دینا جائز ہے، ہاتھ نا پاک ہونے پر ہاتھ پاک کر لیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو