متبرک راتوں میں عبادت کے لئے جمع ہونا
سوال
ہم لوگ اپنے محلہ کی مسجد میں شب معراج کی تقریب کے سلسلے میں شب بیداری یعنی تلاوت قرآن، صلوۃ النفل اور اوراد و وظائف میں مشغول رہتے ہیں اور شب گزارتے ہیں، اور جمعہ کو روزہ رکھتے ہیں، زید کا کہنا ہے کہ قرآن وحدیث سے رجب کی ستائیس تاریخ کو شب بیداری کرنا اور بطور تقریب کے ماننا ثابت نہیں ہے اور یہ بدعت کے مترادف ہے، اس بارے میں زید کا قول کیسا ہے؟
جواب
زید کا قول صحیح ہے اس طرح اس شب میں مسجد وغیرہ میں جمع ہونا اور اجتماعی ہیئت سے نوافل وتلاوت میں مشغول رہنا ثابت نہیں بلکہ مکروہ اور بدعت ہے ”ویکرہ الاجتماع علیٰ احياء ليلة من هذه الليالي في المساجد وغيرها لانه لم يفعله النبي صلى الله عليه وسلم ولا اصحابه فانكره اكثر العلماء وقالوا ذلك كله بدعة“ (مراقی الفلاح، ص ۲۳۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔