الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شب معراج کی رسوم ثابت نہیں

سوال

(۱) ہمارے یہاں شب معراج میں چند باتیں خصوصی طور پر کرتے ہیں جو مذکور ہیں اس میں صحیح اور غیر صحیح کو واضح فرمائیں، اس رات مسجد کی طرف سے کوئی شیرینی تقسیم ہوتی ہے، اور بتیاں ضرورت سے زائد جلاتے ہیں۔ (۲) اس رات میں امام یا کسی سے تقریر کراتے ہیں، بعد ازاں لوگ نوافل میں مشغول ہوتے ہیں، اس میں ایک غلطی یہ ہوتی ہے، کہ لوگ اس وقت میں نوافل یا قضائے عمری پڑھتے ہیں، اس میں ثواب کی کثرت سمجھتے ہیں، اگر امام اس رات اس وجہ سے کہ ثواب زیادہ سمجھتے ہیں لہذا وہ تقریر نہ کریں تو کونسا راستہ صحیح ہے؟

جواب

(۱،۲) نوافل کا پڑھنا ہر شب میں درست اور موجب ثواب ہے، شب معراج میں پڑھنے پر زیادتی ثواب کی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں، نہ تقریر کا اہتمام ثابت ہے زیادہ بتیاں جلانا اسراف ہے جس کی ممانعت صراحۃً مذکور ہے، تبرک کی تقسیم بھی ثابت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو