الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بسم اللہ خوانی کی تقریب

سوال

یہاں پر بسم اللہ خوانی کا رواج ہے یہ جائز ہے یا نا جائز؟ اس کا شمار بدعت میں ہوگا یا نہیں؟ جبکہ اس کو جزو دین نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک رواج اور موقع خوشی ہے، کہ بچے کی تعلیم کا اب آغاز ہو رہا ہے، تو ایسے موقع پر دعوت وغیرہ کی جاتی ہے، تو ایسی دعوت قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

کسی بزرگ و صالح شخص سے بسم اللہ کرادی جائے، اور کچھ غرباء و احباب کو کھلا دیا جائے، تاکہ بچے کی تعلیم میں برکت ہو تو درست ہے، مگر تکلفات و ریاء و فخر سے بچنا لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو