الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

درود وذکر کے لئے دن، عدد متعین کرنا

سوال

حضرت ابن مسعود جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ایک بار اپنے بعض شاگردوں کو دیکھا کہ ذکر وعبادت کیلئے ایک جگہ مقرر کر کے جمع ہوئے ہیں تو غصہ میں فرمایا اور تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اے لوگو! کیا تم حضرت رسول مقبول ﷺ کے اصحاب سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ ہو، یا گمراہی کی طرف دوڑ رہے ہو؟ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ کے زمانہ میں تو میں نے اس طرح کا ذکر نہیں دیکھا، پھر تم لوگ یہ نیا طریقہ نکال رہے ہو، اثر یہ ہوا کہ یہ سلسلہ رک گیا کیا آپکے اس ارشاد کوفتویٰ کی شکل دی جاسکتی ہے؟

جواب

کسی بھی غیر ثابت تاریخ، دن ہفتہ، عدد وغیرہ کی تعیین اپنی طرف سے لازم کر دینا اور اس کو حکم شرعی قرار دینا اسی زد میں آجائیگا، درود شریف کی کثرت جمعہ کے دن اور شب جمعہ میں ثابت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو