تراویح کے بعد مخصوص انبیاء پر مخصوص درود پڑھنا
سوال
ہمارے یہاں یہ عادت چلی آرہی ہے کہ بعد نماز تراویح چند لوگ جس میں بچے بڑے شامل ہیں صلوۃ گاہ یعنی اذان دینے کے بعد منبر پر یا مسجد کے صحن میں قبلہ رو ہو کر چند مخصوص انبیاء کرام علیہم السلام پر بآواز بلند اپنی شہادت کی انگلیوں کو دونوں کانوں میں رکھ کر صلوۃ وسلام اس ترتیب سے یکے بعد دیگرے پڑھتے ہیں: (۱) الصلوة والسلام علیک یا حضرت آدم صفی اللہ (۲) الصلوة والسلام علیک یا حضرت نوح نجی اللہ (۳) الصلوة والسلام علیک یا حضرت ابراہیم خلیل اللہ (۴) الصلوة والسلام علیک یا حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (۵)
جواب
انبیاء علیہم السلام پر خاص کر حضرت رسول مقبول ﷺ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنا موجب قربت اور ان کا حق ہے، اس کے فضائل احادیث میں بکثرت موجود ہیں، لیکن سوال میں جو طریقہ لکھا ہے، یہ طریقہ نہ حدیث شریف سے ثابت ہے، نہ فقہ سے نہ سلف صالحین، نہ صحابہ کرام سے اور نہ ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالیٰ سے منقول ہے، کنز العمال جلد ششم ص ۱۱۹ کی طرف اسکو منسوب کرنا غلط ہے اور بہتان ہے، وہاں بالکل یہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔