الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اہل میت کے گھر کھانا

سوال

ہمارے علاقہ میں کوئی ضعیف العمر مرد یا عورت مر جائے تو اسی روز یعنی وفات کے دن مرنے والے کے وارث کا کھانا یعنی چاول پکا کر گھی اور شکر کے ساتھ جتنے لوگ بھی نماز جنازہ میں امیر وغریب شریک ہوں سب کو کھلاتے ہیں، بعض لوگوں کو تو سب مہیا ہوتا ہے، اور بعض کو کافی قرض اٹھانا پڑتا ہے، اگر مرنے والے کے وارث غریب ہوں، اور اس رسم کو ادا نہ کریں تو خوب لعن طعن کیا جاتا ہے، اس لئے امیر وغریب کو یہ رسم مجبوراً کرنی پڑتی ہے، شریعت کے حکم سے مطلع فرماویں، کہ فقہائے کرام کیا فرماتے ہیں؟

جواب

حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کے مکان میں کوئی میت ہو جائے وہ لوگ میت کی تجہیز وتکفین میں مشغول رہتے ہیں، کھانا پکانے کی ان کو مہلت نہیں ملتی، اس لئے ان کے واسطے دوسرے لوگ کھانا پکا کر بھیج دیں، اہل میت میں سے جو شخص نہ کھلائے اس پر لعنت کرنا حرام ہے، ورثہ میں اگر نا بالغ ہوں تو ان کا مال کھانا بھی حرام ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو