شیرینی کے لئے رقم مقررہ جبر الینا
سوال
کیا شیرینی مروجہ جو کہ سادات پیروں کو بطور التزام دی جاتی ہے مثلاً کسی شخص نے ہر سال کے لئے رقم ۸/عہ یا ۴/عہ مقرر کر لی کم وبیش پیر صاحب نہیں لیا کرتے اگر تیار دہندہ منکر ہو جاوے تو اس پر تعزیر مالی کی جاتی ہے، جو کہ چند حافظوں کو طعام کھلا دینا ہے، یا رقم تعزیر پیر صاحب یا قاضی صاحب لے کر اسے تصرف میں لاتے ہیں، یا کسی اور تصرف میں خرچ کر دیتے ہیں، اگر مقرر کنندہ شیرینی کا کوئی لڑکا شادی شدہ ہو تو اس سے رقم مقرر شدہ اس کے باپ کی لی جاتی ہے، یہ سلسلہ پشتہا پشت جاری رہتی ہے جو منکر ہو وہ لائق تعزیر رکھا جاتا ہے، کیا…
جواب
اس شیرینی اور نیاز کی شرعاً کوئی اصل نہیں اس کا دینا بھی نا جائز ہے کیونکہ اعانت علی الاثم ہے ”كَمَا فِي الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ“ اور پیروں کو اس کا لینا بھی جائز نہیں، کیونکہ دینے والے خوشی سے نہیں دیتے، بلکہ جبراً دیتے ہیں، قرآن کریم میں ہے وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمُ بِالْبَاطِلِ حدیث شریف میں ہے لا يَحِلُّ مَالُ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔