الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حضور ﷺ کو ابا جان اور حضرت عائشہ کو امی جان کہنا

سوال

ایک خطیب صاحب اپنی تقریر میں یا اپنی گفتگو کے اندر جب بھی حضور ﷺ وحضرت عائشہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو از راہ غلبہ محبت حضور ﷺ کا نام ابا جان محمد ﷺ اور ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں، تمام امت مسلمہ کے روحانی باپ وماں ہیں، اس لئے ہم ان کو ماں باپ کے لفظوں سے صراحة تعبیر بھی کر سکتے ہیں، پوچھنا یہ ہے، ایسا کرنا بدعت میں شامل ہوگا یا نہیں؟ عام لوگ اگر اس عمل پر اصرار کریں تو کیا حکم ہے؟

جواب

خالی اباجان اور امی جان نہیں کہنا چاہئے، حضرت عائشہ کو ام المومنین کہنا سلف سے منقول ہے ”و ازواجه امهاتهم الخ امی جان اور ابا جان ہر دو کی شانِ اقدس سے بہت کم درجہ کا لفظ ہے، ابا جان کہنے میں بظاہر نص قرآنی ما کان محمد ابا احد من رجالكم الاية سے بھی تعارض ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو