نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف بھائی کا درجہ دینا
سوال
کیا یہ صحیح ہے کہ اگر محنت کریں تو اولیاء انبیاء کے درجہ کو پہنچ سکتے ہیں، بعض صاحبان نے تو پیغمبران صاحبان علیہم السلام کی نسبت لکھا ہے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں، اس سے زائد اور کوئی فضیلت نہیں، خصوصاً سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی یہی الفاظ استعمال کرتے ہیں، کیا ایسا کہنا صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو مولانا فرماتے ہیں: ہمسری با انبیاء پرداختند... اولیاء را همچو خود پنداشتند جب انبیاء صاحبان کی شان بعید از قیاس ہے تو ان کا مقابلہ کرنے والا گمراہ ہے یا کافر، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے یا نہیں؟
جواب
کوئی امتی کسی نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا ولایت کے اونچے مقامات پر پہنچنا بعید نہیں، مگر جو حضرات پہنچتے ہیں وہ دعوی نہیں کرتے، اور تکبر نہیں کرتے۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ صرف بھائی کے درجہ میں ہیں، اس سے زیادہ ان کی کوئی فضیلت نہیں یہ غلط ہے، انبیاء علیہم السلام کی شان میں توہین اور گستاخی کرنا کفر ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔