حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نسیان
سوال
بعض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نسیان نہیں ہوا جو شخص رسول اللہ ﷺ کو نسیان ثابت کر دے، اس نے رسول اللہ ﷺ کی سخت توہین کی، گویا کہ رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتا اور نیز کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو علم سحر (جادو) تمام کا تمام دیا گیا تھا، مگر آپ نے عمل سحر نہیں کیا، کیا یہ درست ہے؟
جواب
حدیث شریف میں آتا ہے، کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں اتنی بات ضرور ہے کہ دینی امور میں آپ سے بھول نہیں ہوتی تھی، اگر کبھی اتفاقیہ بھول ہوئی ہے تو فوراً آپ کو متنبہ کر دیا گیا ہے سحر سے بچنا واجب ہے، اور ساحر کے متعلق فقہاء نے کلام کیا ہے کہ اگر اس کے سحر میں کفر ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔