الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رام لچھمن وغیره

سوال

زید کہتا ہے کہ رام لچھمن ہو سکتا ہے کہ اپنے زمانہ میں پیغمبر ہوں،لوگوں نے ان کی تعلیم کو خراب کر کے بدنام کر دیا ہے، اس لئے ان کو برا نہیں کہنا چاہئے، زید اپنے قول کی تصدیق اللہ کے فرمان سے پکڑتا ہے کہ (اللہ نے دنیا کے ہر گوشہ میں اپنا پیغمبر بھیجا ہے) ہو سکتا ہے کہ یہ ہی رام لچھمن ہندوستان میں پیغمبر بن کر آئے ہوں، دریافت طلب امر یہ ہیکہ یہ بات کہاں تک صحیح ہے، اور شخص مذکور پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہونا چاہئے؟

جواب

جب تک دلیل شرعی سے ثبوت نہ ہو کسی کی پیغمبری کا یقین کرنا درست نہیں، بلا وجہ کسی کو برا کہنا بھی درست نہیں، لہذا سکوت ہی احوط ہے، جسکا کفر دلیل شرعی سے ثابت ہو وہ کافر ہی ہے اس کو کافر ہی کہا جائے گا، مسلمان نہیں کہا جا سکتا، اگر حق تعالی اسلام کی توفیق دیدے تو اس کو مسلمان کہا جائیگا، اس کی مثالیں دور اول میں بھی موجود ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو