تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب
سوال
تقدیر پر ایمان لانے کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ آیا یہ کہ جملہ امور پیدائش سے پہلے ہی لکھے جا چکے ہیں، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے، اگر ایسا ہے تو مشکوۃ شریف کی حدیث ص ۹۵ کا کیا مطلب ہے؟ جس میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ہیکہ میری امت کے دوفرقے ایسے ہیں کہ انکا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے، ایک انمیں سے مرجیہ ہے جو کہتا ہیکہ سب کچھ خدا کی تقدیر سے ہے، اور بندہ مثل پتھر کے ہے، اور دوسرا قدریہ ہے جو تقدیر کا منکر ہے۔
جواب
تقدیر پر ایمان لانے کا مفہوم یہی ہے کہ خدائے پاک نے اس عالم کو پیدا فرمانے سے پہلے ہی تجویز فرمادیا تھا کہ فلاں شخص فلاں کام کریگا، اور فلاں چیز اس طرح ہوگی لیکن اس کے باوجود حق تعالیٰ نے انسان کو مکلف بنایا اس کے لئے قانون نازل فرمایا، اگر انسان دیدہ ودانستہ اس قانون پر عمل نہ کرے، اور تقدیر کا سہارا لیکر اپنے کو مجبور محض پتھر کی طرح تصور کرے، درانحالیکہ دنیا کے کاموں میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔