الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نذر معلق کی پیشگی ادائیگی

سوال

کسی شخص نے نذر کی کہ فلاں کام ہو جائے تو تین روزے رکھونگا، اس نے قبل کام ہونے کے نذر پوری کر لی اس کے بعد کام بھی حاصل ہو گیا، تو کیا اس کو دوبارہ نذر پوری کرنا چاہئے یا پہلے روزے کافی ہیں، اور مسئلہ یمین بعینہ اسی طریق پر ہے، یا فرق ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں وہ روزے کافی نہیں کیونکہ روزوں کو معلق کیا تھا، کام پورا ہونے پر اور جب تک کام پورا نہیں ہوا تو انکا وجوب ہی نہیں ہوا، لہذا وہ نفل ہو گئے، اب مستقل روزے شرط کے موافق رکھنے ضروری ہیں مسئلہ یمین میں بھی کفارہ قبل الحنث واجب اور کافی نہیں” وان كان (اى النذر)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو