اس طرح نذر ماننا کہ اگر فلاں کام ہو جائے تو ایک بکری کی قربانی واجب ہے
سوال
بہشتی زیور اختری، ص ۴۹ ج ۳ / منت ماننے کے بیان میں مسئلہ ۱۴ / اگر کسی نے کہا کہ میرا بھائی اچھا ہو جائے تو ایک بکری ذبح کروں گی، تو منت صحیح ہوگئی، حالانکہ درمختار میں ہے، ”ولو قال ان برئت من مرضى هذا فذبحت شاة او على شاة اذبحها فبرئ لا يلزمه لان الذبح ليس من نوع فيه فرض“۔ ان دونوں عبارتوں میں تخالف معلوم ہوتا ہے، براہ کرم حل فرمائیں؟
جواب
ہمارے عرف میں ایسی نذر تصدق کے لئے مانی جاتی ہے، چنانچہ اس بکری سے نہ خود کھاتے ہیں، نہ اغنیاء کو کھلاتے ہیں، بلکہ سب کا سب تصدق کرتے ہیں، اس لئے جو قید لگائی گئی ہے، وہ یہاں موجود ہے” ولو قال ان برئت من مرضى هذا فذبحت شاة او على شاة اذبحها فبرئ لا يلزمه شى لان الذبح ليس من جنسها فرض بل واجب كالاضحية فلا يصح الا اذا زاد التصدق بلحمها فيلزمه لان الصدقة من جنسها فرض هي كالزكوة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔