یمین غموس میں کفارہ نہیں
سوال
زید نے عمر کی ایک چیز اٹھا کر اپنے بکس میں رکھدیا در حقیقت وہ شئی بکر کی تھی، تھوڑی دیر بعد زید اپنے بکس میں اس شئی کو تلاش کر رہا تھا، کہ اس وقت دوسرے آدمی نے کہا کہ وہ چیز بکر لے گیا ہے، زید نے کہا کہ خیر اچھا ہوا کہ وہ اپنی چیز لے گیا، پھر دوسرے دن عمر نے آکے زید سے مطالبہ کیا زید نے اپنی روک کے لئے اس آدمی کے کہنے کے مطابق قسم کھائی کہ بکر نے وہ چیز لے لی تو اس مسئلہ میں زید حانث ہو گا یا نہیں؟
جواب
اس صورت میں اگر جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی ہے تو گناہ ہے کفارہ نہیں، کفارہ یمین منعقدہ میں ہوتا ہے، اور یہ صورت غموس کی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔