جھوٹا حلف
سوال
مسماۃ حلیمہ کے تین لڑکے زید، بکر، عمر، خالد نے حلیمہ سے چار ہزار روپیہ مانگا اور کہا کہ ہم اینٹ کا بھٹہ چلا رہے ہیں، اس میں آپ کا چوتھائی حصہ رہے گا، اس بات کو مان کر حلیمہ وزید نے چار ہزار روپیہ خالد کو دیدیئے، اور کام بھٹہ کا ہوتا رہا، بھٹہ بند ہونے کے بعد جب حساب ہوا تو کافی نقصان معلوم ہوا، کئی روز تک حساب کی جانچ پڑتال ہوتی رہی، مگر نقصان ہی ملا، چنانچہ حلیمہ وزید، بکر، عمر نے، چار ہزار روپیہ کے واسطے دوڑ دھوپ کرنے لگے، خالد روپیہ دینے کے لئے برابر اقرار کرتا رہا لیکن یہ کہتا تھا کہ جتنا روپیہ نقصان ہوا ہے،…
جواب
اگر جھوٹا حلف کیا ہے تو یہ کبیرہ گناہ ہے جو کہ شرک کے قریب ہے، توبہ واستغفار لازم ہے، ور نہ اس کا وبال بہت سخت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔