الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قسم اور قسم کا کفارہ

سوال

ایک مرتبہ میں اپنے عزیز حقیقی چھوٹے بھائی کے ساتھ کسی معاملہ میں تبادلہ خیال کر رہی تھی، دوران گفتگو بحث تلخی تک پہنچ گئی، میں نے جوش وجذبہ میں یہ قسم کھائی کہ یہ قسم کھائی کہ آئندہ سے ان کی ہر چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیتی ہوں، کیا اس طرح قسم کھانا جائز ہے، اس کی معافی کے لئے کیا کرنا چاہئے، یا کوئی کفارہ دینا پڑیگا، اگر ایسا ہو تو اسکی کیا صورت ہوگی، یعنی کفارہ کس قسم سے دینا پڑے گا؟

جواب

یہ بھی قسم ہوگئی، اب ان کی کوئی چیز استعمال کر لیں اور قسم کا کفارہ ادا کر دیں، کفارہ یہ ہے کہ دس غریبوں کو دو وقت شکم سیر کھانا کھلائیں، یا ان کو کپڑے کا جوڑا دیں، اتنی استطاعت نہ ہو تو تین روز مسلسل رکھیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو