ايضاً
سوال
زید عمر سے ایک بڑے کام کا معاملہ کرتا ہے، عمر اس کے کہنے پر کام کرتا رہتا ہے، مگر ایک حصہ کام کا ہو جانے کے بعد زید معاملہ ختم کر دیتا ہے، اس ختم معاملہ میں عمر کا کوئی دخل نہیں ہے، عمر کہتا ہے کہ جتنا کام کر چکا ہوں اس کا معاوضہ ادا کر دو، زید یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ معاملہ اس کی طرف سے ختم ہوا ہے اور معاوضہ واجب ہے، ادائیگی معاوضہ میں طرح طرح کے حیلے بہانے کرتا ہے، عمر عاجز آ کر بحلف یہ کہدیتا ہے کہ میں اپنا حق معاف کروں گا، اس صورت میں: (۱)
جواب
اس حلف کی بناء پر زید کو یہ بھی حق نہیں کہ اس کے ذمہ وعدہ اور معاملہ کی وجہ سے عمر کا جو کچھ مطالبہ واجب الادا ہے اس کو روک لے، چہ جائیکہ جو کچھ حلف سے پہلے ادا کر چکا ہے اس کو واپس لے، عمر کو یہ حق ہے کہ زید سے واجب الاداء مطالبہ وصول کرلے مگر قسم کی وجہ سے اس صورت میں اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ کذافی شرح الاشباه والنظائر
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔