حلف دائن پر ہے یا مدیون پر
سوال
دائن دین کا دعویٰ کرتا ہے اور مدیون دعوئی ایصال یا ابراء کا کرتا ہے، مدیون کے پاس شاہد نہیں ہے، ان دونوں میں مدعی کون ہے، اور قسم کس پر عائد ہونی چاہئے، نور الہدایہ ترجمہ اردو شرح وقایہ باب دعوی میں لکھا ہے کہ قسم دائن پر ہے جبکہ مدیون کے پاس گواہ نہ ہوں، اور فتاوی عبدالحی صاحب جلد سوم باب دعوی میں لکھا ہے کہ مدیون ہی مدعی علیہ ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ قسم مدیون پر ہے اور وہی مدعی علیہ ہے، نیچے در مختار کی عبارت سے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ اگر برضائے دائن قسم اٹھالے مدیون کی حیثیت پر بھی تو ہو سکتا ہے،…
جواب
اس مسئلہ میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک دائن مدعی ہے اور بعض کے نزدیک مدیون مدعی بن گیا اور دائن ایصال وابراء کے انکار کی وجہ سے مدعی علیہ بن گیا، عبارات ذیل سے مسئلہ کی توضیح ہر قول کے قائل کی تعین کے ساتھ معمول بہ اور قول راجح کی تحقیق ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔