ضرورت کی بنا پر قسم کو توڑنا
سوال
زید نے جو کہ قصبہ میں ایک دیندار اور باعزت انسان ہے، جو کہ عرصہ تک قصبہ کا چیئر مین بھی رہا ہے، کسی مجبوری کی بناء پر قسم کھالی کہ آئندہ چیئر مین سیٹ کے لئے کھڑا نہیں ہونگا، مگر بعد میں عوام نے مجبور کیا کہ تیرے ہوتے ہوئے قصبہ کا کوئی دوسرا انسان اس سیٹ پر آکر پبلک کی خدمت نہیں کریگا، تو اس صورت میں شریعت مطہرہ زید کے لئے کیا حکم کرتی ہے، اپنی قسم پر قائم رہے یا عوام کی خواہش کے مطابق کام کرے، اور قسم کا کفارہ ادا کر دے قسم توڑنے کا کفارہ کیا ہوگا؟
جواب
محض عوام کی خواہش کا ہرگز اتباع نہ کیا جائے، البتہ اگر واقعی اس منصب پر آکر صحیح خدمت کی پختہ امید ہے اور ان کے نہ اٹھنے سے نااہل آکر حقوق ضائع کرے گا، جس سے مظلوم پریشان ہوں گے، تو پھر اپنی قسم کے خلاف کر لیا جائے، اور اس کے بعد قسم کا کفارہ ادا کر دیا جائے، کفارہ دس غریبوں کو دو وقت شکم سیر کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے، جس میں اتنی وسعت نہ ہو وہ تین روز مسلسل رکھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔