الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تحريم الحلال يمين

سوال

بیوی نے کہا میں نے اس کام (جماع) سے قسم کھا رکھی ہے، مرد نے کہا اگر تم نے قسم کھا رکھی ہے تو میں نے بھی یہ کام حرام کر لیا ہے، مرد نے کہا کہ میں نے غصہ میں ایسا کہدیا تھا میری نیت طلاق کی نہ تھی مطلع فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی البتہ یمین منعقد ہوگئی، اب اگر جماع کرے گا تو کفارہ یمین لازم ہوگا، عورت نے چونکہ قسم کھا رکھی ہے، تو جماع کی صورت میں اسکے ذمہ بھی مستقل کفارہ لازم ہوگا اگر اس طرح کہتا ہے کہ میں نے عورت کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، تحریم الحلال یمین (در مختار، ص ۱۳ / ج ۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو