الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

استاذ کا قسم کھا کر پھر توڑنا

سوال

ایک لڑکے نے بدتمیزی کی، جبراً استاذ نے قسم کھالی کہ میں تمہیں کبھی نہیں پڑھاؤنگا، دیگر بچوں کی تعلیم جاری ہے، اور جس کے نہ پڑھانے کی قسم کھائی ہے، اس کی تعلیم بھی بند نہیں ہے، وہ دوسرے استاذ سے تعلیم پارہا ہے، اب وہ لڑکا استاذ سے معافی مانگ رہا ہے، اور مولوی صاحب سے پڑھنا چاہتا ہے تو اس صورت میں مولوی (استاذ) صاحب کا قسم توڑ نا اورلڑکے کو پڑھانا کیسا ہے، اور اس کو تعلیم دینا واجب ہے یا نہیں؟

جواب

اگر اس کی تعلیم کا کوئی انتظام نہ ہو سکتا ہو تو اس کی سچی توبہ کے بعد اپنی قسم کا توڑ دینا، اور پھر کفارہ ادا کرنا ضروری ہو جاتا ہے، لیکن اب جبکہ اس کی تعلیم کا دوسرا انتظام موجود ہے، تو قسم توڑنا واجب نہیں، تاہم اخلاق کریمانہ کا تقاضا یہی ہے، کہ اس کو معاف کر دیا جائے، حق تعالیٰ اس کو سچی توبہ نصیب فرمائے، ” الاتحبون ان يغفر الله لكم، الآية المحلوف عليه انواع فعل معصية او ترك…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو