الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قرآن کی قسم سچا نہ جاننے والے کا حکم

سوال

زید کہتا ہے کہ جو شخص قرآن شریف یا کعبہ شریف کی قسم کھائے اس کا ضرور اعتبار کرنا چاہئے، جو نہیں کریگا وہ کافر ہے، لیکن بکر کہتا ہے کہ سوائے خداوند قدوس کے اور کسی چیز کی قسم کھانا ہی جائز نہیں، تو اس کا کیسے اعتبار کیا جائیگا، کیا وہ جھوٹا سمجھا جائے گا؟

جواب

اتنی بات بکر کی صحیح ہے کہ خدا وند قدوس (کی ذات وصفات) کے علاوہ کسی کی قسم کھانا جائز نہیں لیکن فقہاء نے لکھا ہے کہ قرآن پاک کی قسم کھانے سے بھی قسم صحیح ہو جاتی ہے، جیسا کہ فتح القدیر، بحروغیرہ میں ہے لیکن بلا وجہ کسی کو جھوٹا قرار دینا درست نہیں، بلاضرورت بات بات پر قسم کھانا بھی شرعاً مذموم ہے، زید کا یہ کہنا کہ ایسی قسم کھانے والے کا جو اعتبار نہ کرے وہ کافر ہے، یہ بھی غلط…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو