قرآن شریف کی جھوٹی قسم کھانا
سوال
اگر کوئی شخص قرآن شریف کی جھوٹی قسم کھائے تو اس پر اس کلام کا حانث ہونا لازم آتا ہے یا نہیں؟
جواب
عمداً جھوٹی قسم کھانا یمین غموس ہے، جو کہ کبیرہ گناہ ہے۔ شرک کے قریب ہے، کمانی الحديث، ایضاً آئندہ کے متعلق قسم کھا کر اس کے خلاف کرنے سے آدمی حانث ہوتا ہے، جس سے کفارہ لازم آتا ہے بصورت مذکورہ میں کفارہ لازم نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔