قرآن شریف ہاتھ میں لیکر بات کہنا قسم نہیں
سوال
میں نے قرآن شریف ہاتھ میں لے کر قسم کھائی کہ اگر میرا سوتیلا بھائی شریعت کے مطابق عمل کرے گا تو میں زندگی بھر اپنا حقیقی بھائی جانوں گا، اگر شریعت کے مطابق نہ کرے گا تو دشمن، اب اگر ایسی حالت میں میرا سوتیلا بھائی اپنی ماں کے کہنے پر یا اپنی مرضی سے میری کسی بات پر یقین نہیں کرتا، بلکہ والد کی حیات میں مجھے جائداد میں جو حصہ ملا ہے اس میں حصہ لینا چاہے اس پر ناجائز قابض ہونا چاہے تب میرے لئے کیا حکم ہے؟ جب کہ میں قسم کھا چکا ہوں، اگر قسم بموجب کرتا ہوں تو جائداد جاتی ہے، اور اگر نہیں کرتا تو دشمن ہوتا ہے۔
جواب
اگر وہ شریعت کے مطابق عمل نہ کرے تب بھی اس کو دشمن نہ سمجھے اور محض قرآن مجید ہاتھ میں لیکر بات کہنے سے قسم نہیں ہو جاتی، جب تک لفظ قسم نہ کہے اگر قسم ہوگی تو اس کے خلاف کرے، پھر قسم کا کفارہ ادا کر دے اور بھائی سے دشمنی کا معاملہ نہ کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔