قرآن پر ہاتھ رکھ کر بات کہنا
سوال
ماسٹر محمد بشیر ولد ناصر الدین اور چودھری عطا محمد کی بیوی نور جہاں کے درمیان کچھ جھگڑا تھا جس کی وجہ سے اسے کچھ شک تھا کہ اس نے میری بیوی کو جادو کئے ہیں جس پر اس کا ایک شاہد یعنی ایک عورت عورت نے قرآن اٹھا کر کہا کہ یہ کہی تھی کہ میں جادو کروں گی، جس پر ماسٹر محمد بشیر الدین نے کچھ لوگوں سے کہا کہ اب اسے قرآن پر عہد کراؤ کہ مجھے جادو نہیں کراوے گی، اس پر نور جہاں نے کہا کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہوں کہ نہ میں نے جادو کیا ہے، نہ آئندہ کرونگی لیکن لوگوں نے کہا ایسا مت کہو کہ وہ عورت قرآن اٹھائے، آپ جھوٹی ہیں اس…
جواب
بلاثبوت کے کسی پر بہتان لگانا حرام ہے، قسم کھا کر اگر کوئی شخص اس کے خلاف کرے تو اس کے ذمہ کفارہ لازم ہوتا ہے، وہ یہ کہ دس غریبوں کو دو وقت کھانا کھلائے، یا ان کو ایک ایک جوڑا کپڑا دے، اور اگر اتنی حیثیت نہ ہو تو تین روزے مسلسل رکھے، لقوله تعالى فكفارته اطعام عشرة مساكين الاية، محض قرآن پر ہاتھ رکھنا قسم نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔