قرآن اُٹھا کر قسم کھانا
سوال
زید نے بکر سے کسی بات کا معاہدہ لینے کے لئے چاہا بکر نے وعدہ کیا زید نے اعتبار نہ کیا بکر نے غصہ میں آکر کلام اللہ شریف اٹھا لیا اور اسی طرح پر بکر نے زید سے کسی بات کا وعدہ لینا چاہا زید نے بکر کے اطمینان کیلئے کلام اللہ شریف اٹھا کر خدا اور رسول کو بیچ میں دے کر وعدہ کر لیا، اب ان میں سے ایک نے اپنا وعدہ توڑ دیا، تو اب دوسرا بھی اگر توڑ دے تو قابل گرفت تو نہیں یا ہے؟ برائے کرم تحریر کریں۔
جواب
جیسا کہ قرآن شریف اٹھا کر وعدہ کیا ہے تو اگر قسم بھی کھائی ہے تو قسم جب تک موافق شرع ہو اس کو توڑنا درست نہیں، اگر خلاف شرع ہے تو اسکا توڑنا واجب ہے، اور کفارہ بھی واجب ہے، اگر ایک نے قسم توڑ دی ہے تو اس کے ذمہ کفارہ واجب ہو گیا، اگر دوسرا توڑے گا تو اس کے ذمہ بھی کفارہ واجب ہوگا اور اگر محض وعدہ کیا ہے قسم نہیں کھائی تب بھی جہاں تک ہو سکے اس کو پورا کرنا چاہئے، اگر بلا وجہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔