بت خانہ کی قسم کھانا
سوال
زید اور عمر میں کسی بات پر جھگڑا ہو گیا جس کے فیصلے کیلئے دو چار ہندو بھائی اور کچھ مسلمان بھائی کسی مزار سے کچھ فاصلے پر بیٹھے جب زید سے زبان بندی لی گئی تو زید نے جو کچھ کہا تھا کہا، اور عمر سے زبان بندی لی گئی تو اس نے اس بت خانہ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں جو کچھ کہتا ہوں بالکل ٹھیک ہے، اس بت خانہ کی قسم التجا یہ ہے کہ عمر نے ایک مسلمان ہوتے ہوئے ایسی جو قسم کھائی ہے اس سے اس کے اسلام وایمان میں کوئی نقصان تو نہیں ہوا، یا ہوا تو کیا کرنا ہوگا؟
جواب
ضرورت پیش آنے پر اگر قسم کھائی جائے تو اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کی قسم کھائی جائے کسی غیر اللہ کی قسم کھانا اور وہ بھی بت خانہ کی قسم کھانا ہرگز جائز نہیں سخت گناہ ہے مذکورہ صورت میں زیادہ خطرہ ہے، اسلئے تجدید ایمان وتجدید نکاح کرا دیا جائے، ندامت کے ساتھ توبہ کر کے آئندہ پوری احتیاط واجتناب کا وعدہ کرنا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔