ايضاً
سوال
ایک شخص کو نقد روپیہ نہیں ہے، اور نہ زیورات ہیں کہ نصاب کہلائے البتہ اس کے پاس کاشت کی زمین ہے، رہنے سے فاضل مکانات ہیں کھانے پینے کے ظروف کے علاوہ ظروف ہیں کھانے سے بچا ہوا غلہ کا ذخیرہ ہے، سودے سے بھر پور دوکان ہے، ان چیزوں کی وجہ سے صاحب نصاب کہلائے گا یا نہیں، اس پر وجوب صدقہ و قربانی عائد ہوگی یا نہیں ایک شخص کے پاس دو یا ایک ایکڑ زمین ہے جس کی مالیت اتنی ہے کہ اس سے وہ صاحب نصاب ہو جاتا ہے، بلکہ فریضہ حج پر قادر جائداد فروخت کرنے پر ہو جائے گا اس کے پاس اس کے علاوہ جائداد نہیں، اسی سے گذران کرتا ہے سال بھر…
جواب
فاضل مکان، فاضل ظروف، فاضل مویشی، فاضل آلات، فاضل غلہ اگر بقدر نصاب ہے، تو اس پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے، جس زمین کی آمدنی پر اس کا گذران موقوف ہے، اس کی وجہ سے حج فرض نہیں اگر چہ اس کی قیمت اخراجات حج کے لئے کافی ہو سکے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔