الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صدقة الفطر وغیرہ کے لئے بیت المال

سوال

ہماری بستی میں الحمد للہ بیت المال قائم ہے، ہم ہر سال عیدالفطر پر صدقہ فطر گھر گھر سے وصول کر لیتے ہیں اور عید کے بعد مجلس منتظمہ پھر یہ طے کرتی ہے کہ بستی کے کن کن مستحقین کو کتنا روپیہ ماہانہ یا یکمشت دیدیا جائے، اس قسم کے نظم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا صدقہ فطر یوم عید سے قبل بھی وصول کیا جا سکتا ہے؟ کیا جمع شدہ صدقہ فطر نیز زکوۃ وغیرہ سال کے اندر یا بروقت ہی تقسیم کیا جانا ضروری ہے؟

جواب

صدقۃ الفطر کا ایسا انتظام کرنا کہ سبھی ادا کریں کوئی باقی نہ رہ جائے اور صحیح مصارف پر خرچ کیا جائے، بہت مناسب ہے مگر اس میں جبر کی صورت اختیار نہ کی جائے کہ ہر شخص صدقہ فطر لازمی طور پر بیت المال ہی کو دے اور بیت المال کے لوگ اس پر جا کر مسلط ہو جائیں کیونکہ یہ بیت المال شرعی بیت المال نہیں بلکہ نام کا بیت المال ہے اس لئے اموالِ ظاہرہ کی زکوۃ بھی جبراً وصول کرنے کا حق نہیں،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو