نصاب زکوة وفطره
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ بہشتی زیورص: ۳۶ تیسرا حصہ حاشیہ اول میں ذکر کیا گیا ہے جس کا حوالہ مراقی الفلاح علی حاشیہ الطحطاوی ص : ۳۹۴ (۱) ذیل میں جتنی اشیاء ذکر کی گئی ہیں وہ سب ہماری حوائج الاصلیہ اور حوائج عیالہ ہیں، مسکنہ، ثیابہ، اثاثة المنزل، فرسه، ودابة للركوب، سلاحہ، کتابہ، اس کے سواء آباد کرنے کے لئے بیل یعنی ہل جوتنے کے لئے اور دودھ پینے کے لئے بوجھ ڈھونے کے لئے، زمین، دھان، گیہوں وغیرہ، لہذا بہشتی زیور کی ۲ مسئلہ کے اعتبار سے یہ ہر ایک اگر چہ ہزاروں روپیہ کی قیمت کا ہو اور ضرورت…
جواب
(۱) مسئلہ اسی طرح ہے دیگر کتب فقہ بحر، بدائع وغیرہ میں بھی مذکور ہے ایسے شخص پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔ (۳) محض اس گائے کی وجہ سے صدقۃ الفطر واجب نہ ہوگا ہے (۴) مقدار نصاب میں صدقۃ الفطر کے لئے نقدین کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ نقدین کے برابر کوئی اور چیز قیمۃً ہو تب بھی صدقۃ الفطر واجب ہوگا اور زکوۃ جب واجب ہوگی کہ نقدین ہوں یا نقدین کے قائم مقام سوائم یا مال تجارت ہو، الحاصل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔