الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ نقد زمین وغیرہ میں

سوال

(۱) جس زمین کی مال گذاری فی بیگہ دو روپئے تین روپیہ چار روپیہ تک سالانہ ہو اس زمین کی بھی زکوۃ نکالنی چاہئے یا نہیں، اگر زکوۃ اس میں نکالنا فرض ہے، تو کیا زمین کی قیمت لگا کر، اگر زمین کی پیدوار کی زکوۃ نکالنا ہے، تو کتنا پیدا ہونے سے زکوۃ فرض ہوتی ہے، کیا اسی وقت زکوۃ پیداوار کی نکال دینی چاہئے، یا سال بھر اپنی ضروریات میں خرچ کرنے کے بعد اور مال گذاری ادا کرنے کے بعد زکوۃ نکالنی چاہئے۔ (۲)

جواب

(۱) ہندوستان کی جو زمین کفار کے قبضہ میں تھی یا ہے اس میں زکوۃ واجب نہیں اور سلطنت اسلامیہ کے زمانے سے جو زمین برابر مسلم کے قبضہ میں آ رہی ہے وہ عشری ہے اس کی پیداوار کی زکوۃ بہر صورت واجب ہے، خواہ مالگذاری کتنی ہی دینی پڑتی ہو، اور خواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ ہو اس کا کوئی نصاب متعین نہیں اور نہ سال گزرنا یا سال بھر تک باقی رہنا شرط ہے، اس میں زمین کی قیمت کا اعتبار نہیں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو