الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ادائے زکوۃ کے لئے حیلہ تملیک

سوال

خالد صاحب نصاب ہے اس نے زکوۃ کا پچاس روپیہ ایک غریب کو دیا غریب نے اپنی خوشی سے بلا جبر خالد کو بخش دیا، پھر خالد نے غریب کو دیدیا، مطلب یہ ہے کہ خالد زکوۃ ادا کرنے کا حیلہ کرتا ہے اور پچاس روپیہ زکوۃ کے سو یا دو سو کے عوض میں دیتا ہے کیا اس حیلہ سے خالد کی زکوۃ جائز ہوگی؟

جواب

سخت ترین مجبوری کے وقت کہ گذشتہ زمانہ کی زکوۃ فرض ہے اور ادائیگی کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ قریب میں کوئی توقع ہے، تو یہ حیلہ مشروع ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالی مواخذہ سے بچالیں گے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو