زکوۃ کے لئے تملیک کی شرط
سوال
ادائے زکوۃ کیلئے فقہائے احناف نے جزاہم اللہ خیر الجزاء شرط لگائی ہے کہ زکوۃ جس شخص کو دی جائے اسکو مال زکوۃ کا پورا مالک قرار دیا جائے، اور اسی لئے رفاہ عام کے کاروبار میں جو سرمایہ داخل کیا جاتا ہے اور مختلف ضرورتوں میں حسب مصلحت خرچ کیا جاتا ہے وہاں مالِ زکوۃ دینے سے روکا جاتا ہے مثلاً خیراتی مدارس مذہبی میں جہاں نادار طلباء درس حاصل کرتے ہیں اور ان کے واسطے مدارس میں کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا جاتا ہو جو طلباء عاریہ لیتے ہیں اور بعد فارغ ہونے مدرسہ کو واپس کر دیتے ہیں یا طلبہ کی خوراک کے واسطے کوئی سرمایہ ہوتا ہے…
جواب
مدارس میں طلباء کی خوراک وبسر اوقات کے لئے کس نے زکوۃ کو منع کیا، آج بھی جگہ جگہ مدارس اسلامیہ میں زکوۃ کا روپیہ آتا ہے اور اس سے مستحق طلباء کو کھانا کپڑا جوتہ نقد وظیفہ دیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ بطور تملیک ہوتا ہے، لہذا اس پر تو اشکال بے محل ہے، باقی رہی یہ بات کہ تملیک من کل وجہ کس شرط پر مبنی ہے اور کس وقت سے؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔