تملیک کی صورت
سوال
(۱) تملیک کی صورت کیا ہے؟ کیا ان غریب الوطن یا مقیم طلباء سے جن کے اولیاء غنی ہیں لیکن وہ خود نصاب زکوۃ کے مالک نہیں ہیں، تملیک کرائی جاسکتی ہے، نیز کیا تملیک شدہ مال کو تعمیر مساجد جیسے دیگر مصارف میں صرف کیا جا سکتا ہے، چرم قربانی کی رقم کی بھی تملیک ہو سکتی ہے یا نہیں؟ (۲) تملیک کے لئے مملک کا بالغ ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
(۲،۱) کسی مستحق زکوۃ سے کہا جائے کہ ہمارے مدرسہ میں تعمیر یا تنخواہ یا خریداری مال و کتب وغیرہ کی ضرورت ہے پیسہ موجود نہیں ہے تم مدرسہ کی امداد کر دو، وہ کہے گا کہ میں خود ہی غریب مستحق زکوۃ ہوں میرے پاس پیسہ نہیں، میں کہاں سے دوں گا، اس سے کہا جائے گا کہ تم کسی سے مثلاً زید سے قرض لے کر دیدو، اللہ تعالیٰ تمہارا قرض ادا کر دے گا اس کی ذات سے امید ہے وہ شخص زید سے قرض لا کر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔